بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5449
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5449
حدیث نمبر: 5449 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَبَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" صَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ بِحِيَالِ الْبَابِ"، فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا، فَفُتِحَ لَهُ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: أَمَا إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي يَعْلَمُ، وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي!!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ باب کعبہ کے عین سامنے دو ستونوں کے درمیان، اتنی دیر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آ گئے اور زور زور سے دروازہ بجایا دروازہ کھلا تو انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو معلوم تھا کہ یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح مجھے بھی پتہ ہے (پھر بھی آپ نے یہ بات ان سے دریافت کروائی؟) اصل بات یہ ہے کہ آپ کو مجھ سے حسد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
← پچھلی حدیث (5448) باب پر واپس اگلی حدیث (5450) →