عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ابْنَ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَمِرُ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ،" وَمَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں! عروہ نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: اللہ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں (لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1777، م :1255.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1777، م :1255.