أَبُو سَلَمَةَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ:" مَنْ بَايَعْتَ، فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ"، فَكَانَ يَقُولُ إِذَا بَايَعَ: لَا خِلَابَةَ، وَكَانَ فِي لِسَانِهِ رُتَّةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جسے بیع میں لوگ دھوکہ دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکر ہ ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس سے خرید و فروخت کیا کرو اس سے یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔“ چونکہ اس کی زبان میں لکنت تھی لہٰذا وہ «لاخلابه» کے بجائے «لاخيابه» کہہ دیتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م :1533.
الحكم: إسناده صحيح ، م :1533.