أَبُو سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، عَاصِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَبَادِرْ الصُّبْحَ بِرَكْعَةٍ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا جبکہ میں ان دونوں کے درمیان تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے پڑھ لیا کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5399]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم .
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم .