حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو طُعْمَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو طُعْمَةَ ، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: لَا أَعْرِفُ إِيشْ اسْمُهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْبَدِ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ، وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَتَأَخَّرْتُ لَهُ، فَكَانَ عَنْ يَمِينِهِ، وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ، فَتَنَحَّيْتُ لَهُ، فَكَانَ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِرْبَدَ، فَإِذَا بِأَزْقَاقٍ عَلَى الْمِرْبَدِ فِيهَا خَمْرٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدْيَةِ، قَالَ: وَمَا عَرَفْتُ الْمُدْيَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِالزِّقَاقِ فَشُقَّتْ، ثُمَّ قَالَ:" لُعِنَتْ الْخَمْرُ، وَشَارِبُهَا، وَسَاقِيهَا، وَبَائِعُهَا، وَمُبْتَاعُهَا، وَحَامِلُهَا، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَعَاصِرُهَا، وَمُعْتَصِرُهَا، وَآكِلُ ثَمَنِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹوں کے باڑے کی طرف تشریف لے گئے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب تھا، تھوڑی دیر بعد سامنے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دئیے، میں اپنی جگہ سے ہٹ گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں طرف آ گئے اور میں بائیں جانب، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، میں پھر اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب آ گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹوں کے باڑے میں پہنچے تو وہاں کچھ مشکیزے نظر آئے جن میں شراب تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے چھری منگوائی، مجھے چھری نامی کسی چیز کا اسی دن پتہ چلا، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان مشکیزوں کو چاک کر دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”شراب پر، اس کے پینے اور پلانے والے پر، اس کے بیچنے اور خریدنے والے پر، اس کے اٹھانے اور اٹھوانے والے پر، اس کے نچوڑنے اور نچڑوانے والے پر، اور اس کی قیمت کھانے پر لعنت ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5390]
حکم دارالسلام
حديث حسن ، عبدالله بن لهيعة - وإن كان ضعيفا - قد روى عنه أيضا ابن وهب وسماعه منه قبل احتراق كتبه ، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده .
الحكم: حديث حسن ، عبدالله بن لهيعة - وإن كان ضعيفا - قد روى عنه أيضا ابن وهب وسماعه منه قبل احتراق كتبه ، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده .