يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ، فَوَهَبَهَا لِي، فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى أَخْوَالِي مِنْ بَنِي جُمَحٍ، لِيُصْلِحُوا لِي مِنْهَا حَتَّى أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ آتِيَهُمْ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصِيبَهَا إِذَا رَجَعْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ حِينَ فَرَغْتُ، فَإِذَا النَّاسُ يَشْتَدُّونَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: رَدَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا، قَالَ: قُلْتُ: تِلْكَ صَاحِبَتُكُمْ فِي بَنِي جُمَحٍ، فَاذْهَبُوا فَخُذُوهَا، فَذَهَبُوا فَأَخَذُوهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بنو ہوازن کے قیدیوں میں سے ایک باندی عطاء فرمائی وہ انہوں نے مجھے ہبہ کر دی، میں نے اسے بنوجمح میں اپنے ننہیال بھجوادیا تاکہ وہ اسے تیار کریں اور میں بیت اللہ کا طواف کر آؤں، واپس آکر میرا ارادہ اس سے ”خلوت“ کرنے کا تھا، چنانچہ فارغ ہو کر جب میں مسجد سے نکلا تو دیکھا کہ لوگ بھاگے جا رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ہمارے بیٹے اور عورتیں واپس لوٹا دی ہیں، میں نے کہا کہ پھر تمہاری ایک عورت بنوجمح میں بھی ہے، جا کر اسے وہاں سے لے آؤ، چنانچہ انہوں نے وہاں جا کر اسے حاصل کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5374]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ، ابن إسحاق صرح بالتحديث هنا ، فانتفت شبهة تدليسه .
الحكم: إسناده حسن ، ابن إسحاق صرح بالتحديث هنا ، فانتفت شبهة تدليسه .