عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، رَجُلٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا" نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ؟! فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
آل خالد بن اسید کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا تذکرہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے؟) انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا ہم کچھ نہیں جانتے تھے ہم تو وہ کریں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5333]
حکم دارالسلام
صحيح ، وهذا إسناد لم يقمه الإمام مالك كما قال ابن عبد البر في التمهيد 161/11 .
الحكم: صحيح ، وهذا إسناد لم يقمه الإمام مالك كما قال ابن عبد البر في التمهيد 161/11 .