وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، النَّجْرَانِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ، فَضَرَبَهُ الْحَدَّ، ثُمَّ قَالَ:" مَا شَرَابُكَ؟" فَقَالَ: زَبِيبٌ وَتَمْرٌ، فَقَالَ:" لَا تَخْلِطْهُمَا، يَكْفِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا، اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پینے کا اعتراف کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی جانب سے کفایت کر جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5223]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة النجراني .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة النجراني .