عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، مَا خَلَا رِجْلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے، نبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وضو کر لے اور سو جائے“ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی ایساکام کرنا چاہتے، تو نماز والا وضو کر لیتے اور صرف پاؤں چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4929]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.