عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، بِلَالًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَجَاءَ بِهِ، فَفَتَحَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمْ الْبَابَ مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحُوهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَادَرْتُ النَّاسَ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، صحن کعبہ میں پہنچ کر اونٹنی کو بٹھایا اور عثمان بن طلحہ سے چابی منگوائی، وہ چابی لے آئے اور دروازہ کھولا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو گئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر لیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے، تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ اگلے دوستونوں کے درمیان لیکن میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 468، م: 1329.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 468، م: 1329.