وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا، فَضَحَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ، قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے بچے کو دنیا میں رسوا کرنے کے لئے اپنے سے اس کے نسب کی نفی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام گواہوں کی موجودگی میں رسوا کرے گا، یہ ادلے کا بدلہ ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4795]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، والد وكيع مختلف فيه
الحكم: إسناده حسن، والد وكيع مختلف فيه