وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے پھر طہر کے بعد اسے طلاق دے دے یا امید کی صورت میں ہو تب بھی طلاق دے سکتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1471
الحكم: إسناده صحيح، م: 1471