بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4728
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4728
حدیث نمبر: 4728 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ نُمَيْرٍ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، أَبُو دُهْقَانَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو دُهْقَانَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيْفٌ، فَقَالَ لِبِلَالٍ:" ائْتِنَا بِطَعَامٍ، فَذَهَبَ بِلَالٌ، فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ جَيِّدٍ، وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا، فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ؟، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابودہقانہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی مہمان آ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کھانا لانے کا حکم دیا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے پاس موجود کھجوروں کے دو صاع جو ذرا کم درجے کی تھیں دے کر اس کے بدلے میں ایک صاع عمدہ کھجوریں لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عمدہ کھجوریں دیکھ کر تعجب ہوا اور فرمایا کہ یہ کھجوریں کہاں سے آئیں؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے دو صاع دے کر ایک صاع کھجوریں لی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو ہماری کھجوریں تھیں وہی واپس لے کر آؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4728]
حکم دارالسلام
حسن، أبو دهقانة لم يرو عنه غير فضيل ابن غزوان
الحكم: حسن، أبو دهقانة لم يرو عنه غير فضيل ابن غزوان
← پچھلی حدیث (4727) باب پر واپس اگلی حدیث (4729) →