أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا، فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ وَالِدَانِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَكَ خَالَةٌ"، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَبِرَّهَا إِذَنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش اور کوئی صورت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے والدین ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خالہ کے متعلق پوچھا، اس نے کہا: وہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان سے حسن سلوک کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4624]
الحكم: إسناده صحيح