يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ لَيْلَةُ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، وَكَانَ فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ کبھی ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے اس لئے اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اندازہ کر لو۔“ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شعبان کی ٢٩ تاریخ ہونے کے بعد اگر بادل یا غبار چھایا ہوا ہوتا تو روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080