بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4535
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4535
حدیث نمبر: 4535 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْوَلِيدُ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ، فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ، يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَتَسْمَعُ؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ، فَيَمْضِي، حَتَّى قُلْتُ: لَا، فَوَضَعَ يَدَيْهِ، وَأَعَادَ رَاحِلَتَهُ إِلَى الطَّرِيقِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ، فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما راستے میں جا رہے تھے کہ ان کے کانوں میں کسی چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز آئی انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور وہ راستہ ہی چھوڑ دیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد مجھ سے پوچھتے رہے کہ نافع! کیا اب بھی آواز آ رہی ہے میں اگر ہاں میں جواب دیتا تو وہ چلتے رہتے یہاں تک کہ جب میں نے نہیں کہہ دیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ کانوں سے ہٹا لئے اور اپنی سواری کو پھر راستے پر ڈال دیا اور کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز سنتے ہوئے اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4535]
حکم دارالسلام
حديث حسن، الوليد ابن مسلم، و إن كان يدلس تدليس التسوية، وهو شر أنواعه - تابعه مخلد ابن يزيد في الرواية: 4965
الحكم: حديث حسن، الوليد ابن مسلم، و إن كان يدلس تدليس التسوية، وهو شر أنواعه - تابعه مخلد ابن يزيد في الرواية: 4965
← پچھلی حدیث (4534) باب پر واپس اگلی حدیث (4536) →