عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْر، كَيْلًا، وَالْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے کٹی ہوئی کھجور کو یا انگور کو کشمش کے بدلے ایک معین اندازے سے بیچنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2171، م: 1542
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2171، م: 1542