مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، بَيَانٍ ، وَبَرَةَ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ؟! قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ" وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہو تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے؟ وہ شخص کہنے لگا کہ اصل میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے منع کرتے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4512]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1233
الحكم: إسناده صحيح، م: 1233