إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا لَا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ، فَيُكْسَرَ بَابُهَا، ثُمَّ يُنْتَثَلَ مَا فِيهَا؟! فَإِنَّمَا فِي ضُرُوعِ مَوَاشِيهِمْ طَعَامُ أَحَدِهِمْ، أَلَا فَلَا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ" أَوْ قَالَ:" بِأَمْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے جانوروں کا دودھ دوہ کر اپنے استعمال میں مت لایا کرو کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ اس کے بالاخانے میں کوئی جا کر اس کے گودام کا دروازہ توڑ دے اور اس میں سے سب کچھ نکال کر لے جائے، یاد رکھو! لوگوں کے جانوروں کے تھنوں میں ان کا کھانا ہوتا ہے اس لئے اس کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ نہ دوہا جائے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4505]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1726
الحكم: إسناده صحيح، م: 1726