إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ:" مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ؟" فَقَالُوا: نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَيُخْزَيَانِ!! فَقَالَ:" كَذَبْتُمْ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ، فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ"، فَجَاءُوا بِالتَّوْرَاةِ، وَجَاءُوا بِقَارِئٍ لَهُمْ أَعْوَرَ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ صُورِيَا، فَقَرَأَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَإِذَا هِيَ تَلُوحُ، فَقَالَ: أَوْ قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا،" فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَا"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا يَقِيهَ الْحِجَارَةَ بِنَفْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چند یہودی اپنے میں سے ایک مرد و عورت کو لے کر آئے ”جنہوں نے بدکاری کی تھی“، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کتاب (تورات) میں اس کی کیا سزا درج ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم ان کے چہرے کالے کر دیں گے اور انہیں ذلیل کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں اس کی سزا رجم بیان کی گئی ہے تم تورات لے کر آؤ اور مجھے پڑھ کر سناؤ اگر تم سچے ہو۔“ چنانچہ وہ تورات لے آئے اور ساتھ ہی اپنے ایک اندھے قاری کو ”جس کا نام ابن صوریا تھا“ بھی لے آئے، اس نے تورات پڑھنا شروع کی جب وہ آیت رجم پر پہنچا تو اس نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، اسے جب ہاتھ ہٹانے کے لئے کہا گیا اور جب اس نے ہاتھ ہٹایا تو وہاں آیت رجم چمک رہی تھی، یہ دیکھ کروہ یہودی خود ہی کہنے لگے کہ اے محمد! اس میں ”رجم“ کا حکم ہے، ہم خود ہی اسے آپس میں چھپاتے تھے، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان دونوں کو رجم کر دیا گیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھروں سے بچانے کے لئے اس پر جھکا پڑتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699