إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ، وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں استبرق کا ایک ٹکڑا ہے، میں جنت کی جس جگہ کی طرف بھی اس سے اشارہ کرتا ہوں، وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کے کہنے پر یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی نیک آدمی ہے۔“ یا یہ فرمایا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1156، م: 7015
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1156، م: 7015