بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4486
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4486
حدیث نمبر: 4486 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ، عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ"، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍِ بُرٍّ. قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ التَّمْرُ فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مذکر و مؤنث اور آزاد غلام سب پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد لوگ نصف صاع گندم پر آ گئے، نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر میں کھجور دیا کرتے تھے، اس معمول میں صرف ایک مرتبہ فرق پڑا تھا جبکہ کھجوروں کی قلت ہو گئی تھی اور اس سال انہوں نے جَو دئیے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4486]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1511، م: 984
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1511، م: 984
← پچھلی حدیث (4485) باب پر واپس اگلی حدیث (4487) →