إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ، مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، ، حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ تَبَسَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا ضَحِكْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ تَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ضَحِكْتُ؟" قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وُضُوءَهُ، ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ فَأَتَمَّ صَلَاتَهُ، خَرَجَ مِنْ صَلَاتِهِ كَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پانی منگوا کر وضو کیا اور فراغت کے بعد مسکرانے لگے اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو، میں کیوں ہنس رہا ہوں؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسی طرح وضو کیا تھا جیسے میں نے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مسکرائے تھے اور دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم جانتے ہو، میں کیوں ہنس رہا ہوں؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، فرمایا: جب بندہ وضو کرتا ہے اور کامل وضو کر کے نماز شروع کرتا ہے اور کامل نماز پڑھتا ہے تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ ایسے ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے جنم لے کر آیا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 430]
الحكم: إسناده صحيح