حَجَّاجٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاهَا مِنْهُ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهَا"، فَتَبَادَرْنَاهَا، فَسَبَقَتْنَا، فَقَالَ:" إِنَّهَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہو گئی، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1830، م: 2234.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1830، م: 2234.