هُشَيْمٌ ، سَيَّارٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ الْبَارِحَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ، وَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ؟ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4996، م: 822.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4996، م: 822.