سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاق ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ؟ فَقَالَ:" ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ" كَأَنَّهُ غَضْبَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے سکوت فرمایا، ہم نے پھر پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا اور کچھ دیر بعد فرمایا: ”اسے پتھر گرم کر کے لگاؤ“، گویا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4054]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - متابع.
الحكم: حديث صحيح، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - متابع.