ابْنُ فُضَيْلٍ ، لَيْثٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ لَهُ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ، وَلَا تُقْرِبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا"، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَحَنَا، ثُمَّ طَبَّقَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ، وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے باہر نکلے تو مجھ سے فرمایا: ”کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجا کر سکوں، لیکن دیکھو بدلی ہوئی رنگ والا پانی یا گوبر نہ لانا“، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے وضو کا پانی بھی لایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، اس نماز میں جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کے لئے اپنی کمر جھکائی تو دونوں ہاتھوں سے تطبیق کی اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے بیچ میں کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4053]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث.