هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، أَبِي حَيَّانَ الْأَشْجَعِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِيَ: اقْرَأْ عَلَيَّ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَيْسَ مِنْكَ تَعَلَّمْتُهُ، وَأَنْتَ تُقْرِئُنَا؟ فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ مِنَ الْقُرْآنِ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ عَلَيْكَ أُنْزِلَ، وَمِنْكَ تَعَلَّمْنَاهُ؟، قَالَ:" بَلَى، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوحیان اشجعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا کہ میں نے تو آپ ہی سے قرآن سیکھا ہے اور آپ ہی ہمیں قرآن پڑھاتے ہیں (تو میں آپ کو کیا سناؤں؟) انہوں نے فرمایا کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پڑھ کر سناؤ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے اور آپ ہی سے ہم نے اسے سیکھا ہے؟ فرمایا: ”ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3550]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 4582، م: 800، وهذا إسناد ضعيف، أبو حيان الأشجعي مجهول
الحكم: صحيح لغيره، خ: 4582، م: 800، وهذا إسناد ضعيف، أبو حيان الأشجعي مجهول