هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ: أَعْرَابِيٌّ هَذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا؟! سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے، لوگ کہنے لگے کہ کیا یہ کوئی دیہاتی ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: لوگ بھول گئے یا بہک گئے؟ جس ذات پر سورہ بقرہ کا نزول ہوا میں نے اسی ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1283
الحكم: إسناده صحيح، م: 1283