ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرِ، فَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَكِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ، كُنْتِ تَقْضِينَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:" فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضا کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1903، م: 1148
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1903، م: 1148