حَجَّاجٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ، فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ارقم بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مدینہ منورہ سے شام کا سفر کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رفاقت نصیب ہو گئی، میں نے ان سے دوران سفر پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں بھی کوئی نماز جماعت سے نہیں چھوڑی، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت بہت زیادہ بوجھل ہو گئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں مبارک پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے آ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال اسی حال میں ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی نہ بنایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه