وَكِيعٌ ، سُكَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُكَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يُلَاحِظُ امْرَأَةً عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ عَلَى عَيْنِ الْغُلَامِ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ حَفِظَ فِيهِ بَصَرَهُ وَلِسَانَهُ، غُفِرَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کی شام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فضل کو دیکھا کہ عورتوں کو کن اکھیوں سے دیکھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3350]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول