وَكِيعٌ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ! ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى دُمُوعِهِ عَلَى خَدَّيْهِ تَحْدُرُ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتُونِي بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَوْ الْكَتِفِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا" فَقَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا: جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ میں نے ان کے رخساروں پر موتیوں کی لڑی کی طرح بہتے ہوئے آنسو دیکھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔“ لوگ کہنے لگے کہ کیا ہو گیا، کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بہکی بہکی باتیں کر سکتے ہیں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3053، م: 1637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3053، م: 1637