بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3291
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3291
حدیث نمبر: 3291 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي النَّاسَ آخِرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ، أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماہ رمضان کے آخر میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے اہل بصرہ! اپنے روزے کی زکوٰۃ ادا کرو، لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور مقرر فرمائی ہے جو آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث سب پر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3291]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وقد عنعن
← پچھلی حدیث (3290) باب پر واپس اگلی حدیث (3292) →