بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3212
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3212
حدیث نمبر: 3212 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، سَمِعَهُ مِنَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ، أَيُّ يَوْمٍ أَصُومُهُ؟ فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ، فَاعْدُدْ، فَأَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعَةِ صَائِمًا. قَالَ: قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1133
الحكم: إسناده صحيح، م: 1133
← پچھلی حدیث (3211) باب پر واپس اگلی حدیث (3213) →