مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ؟ فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، وَحَتَّى يُوزَنَ. قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْزَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں کی بیع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں سے خود چکھ لے یا کسی دوسرے کو چکھا دے، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کر لیا جائے، میں نے پوچھا: وزن سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جس کے پاس کھجوریں ہیں، وہ وزن کرے تاکہ انہیں الگ کر کے جمع کر سکے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2250، م: 1537
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2250، م: 1537