مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، ذَرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِالشَّيْءِ، لَأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَقْدِرْ مِنْكُمْ إِلَّا عَلَى الْوَسْوَسَةِ". وَقَالَ الْآخَرُ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں انہیں زبان پر لانے سے بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ آسمان سے گر پڑوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ ”اللہ اکبر“ کہا اور فرمایا: ”اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنی تدبیر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3161]
الحكم: إسناده صحيح