مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، رَجُلًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ، قَالَ:" ذَاكَ الْإِخْلَاصُ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّوَاكِ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ فِيهِ"." وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو تمیم کے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آدمی کے انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا (یعنی نماز میں)، انہوں نے فرمایا: یہ توحید کی گواہی دینا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں ان پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے، اور میں نے دوران سجدہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3152]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول