عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً، فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ؟ فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ، ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ. فَجَرُّوا، ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا،" فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ. فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً، أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے لوگ ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ یہ بتائیے، ہم میں سے اس مقام ابراہیم والے کے مشابہہ سب سے زیادہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ تم اس زمین پر ایک چادر بچھاؤ اور اس پر چلو تو میں تمہیں بتاؤں؟ چنانچہ انہوں نے اس پر چادر بچھائی اور اس پر سے چل کر گئے، اس کاہنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشانات قدم کو غور سے دیکھا اور کہنے لگی کہ یہ تم میں سے سب سے زیادہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہہ ہے، اس واقعے کے بیس سال یا بیس سال کے قریب گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3072]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فإن رواية سماك عن عكرمة، فيها اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف، فإن رواية سماك عن عكرمة، فيها اضطراب