عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ لِيَأْكُلَ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌّ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ". فَأَكَلَ خَالِدٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی دو عدد گوہ پیش کی گئیں، اس وقت وہاں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابھی کھانے کے لئے ہاتھ بڑھانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کسی نے بتا دیا کہ یہ گوہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا: ”نہیں، لیکن چونکہ یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے میں اس سے بچنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔“ چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھا لیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں دیکھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1945
الحكم: إسناده صحيح، م: 1945