عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ، فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ" فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا، فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس وقت حاضر رہا ہوں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو وہ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1449، م :884
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1449، م :884