بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3060
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3060
حدیث نمبر: 3060 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، كُرَيْبًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ كُرَيْبًا أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَرَّنِي، فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ، خَنَسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِي:" مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ، فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ. فَقَامَ فَصَلَّى، مَا أَعَادَ وُضُوءًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے آخری حصے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور ان کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور مجھے اپنے برابر کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پھر پیچھے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: کیا بات ہے بھئی! میں تمہیں اپنے برابر کرتا ہوں اور تم پیچھے ہٹ جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کسی آدمی کے لئے آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مناسب ہے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو بہت کچھ مقام و مرتبہ دے رکھا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور میرے لئے علم و فہم میں اضافے کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
← پچھلی حدیث (3059) باب پر واپس اگلی حدیث (3061) →