بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27466
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27466
حدیث نمبر: 27466 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ , قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ: قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ , قَالَتْ: أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ , حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ , أَوْ لَيْلَتَيْنِ , طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا , فَفَنِيَ الْحَطَبُ , فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ , فَتَنَاوَلْتُ الْقِدْرَ , فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ , فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ , فَتَفَلَ فِي فَاكَ , وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ , وَدَعَا لَكَ , وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ , وَيَقُولُ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" , قَالَتْ: فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کی والدہ ام جمیل کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں تمہیں سرزمین حبشہ سے لے کر آ رہی تھی، جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر رہ گئی تو میں نے تمہارے لئے کھانا پکانا شروع کیا، اسی اثناء میں لکڑیاں ختم ہو گئیں، میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی تو تم نے ہانڈی پر ہاتھ مارا اور وہ الٹ کر تمہارے بازو پر گر گئی، میں تمہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں خاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ محمد بن حاطب ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیر کر تمہارے لئے دعا فرمائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے ہاتھ پر اپنا لعاب دہن ڈالتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے: «أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما اور شفاء عطا فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کسی کی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے، میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے لے کر اٹھنے بھی نہیں پائی تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27466]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عثمان، وروي عن ابيه عثمان احاديث منكرة
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عثمان، وروي عن ابيه عثمان احاديث منكرة
← پچھلی حدیث (27465) باب پر واپس اگلی حدیث (27467) →