يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أُمِّهِ , قَالَتْ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِضَ , قَالَتْ أُمُّ خَارِجَةَ بِنْتُ زَيْدٍ: طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ , خَيْرُ أَيَّامِكَ الْخَيْرُ , فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: أَنَا , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يُدْرِيكِ؟" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ , مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا , وَهَذَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا ”جو انصاری خواتین میں سے تھیں“ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی ہے اور مہاجرین کی رہائش کے لئے انصار کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی، ہمارے یہاں پہنچ کر ہمارے مہمان حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، ہم ان کی تیماداری کرتے رہے، جب وہ فوت ہو گئے تو ہم نے انہیں کفن میں لپیٹ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، میں نے کہا: اے ابوالسائب! اللہ کی رحمیتیں آپ پر نازل ہوں، میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو معزز کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف سے یقین آ گیا، میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن واللہ مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود یہ علم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27459]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى النضر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى النضر