يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَامَ، صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ، حتى يَقُولُ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، البتہ وہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ کہنے والے کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1971. م: 1157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1971. م: 1157