بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2735
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2735
حدیث نمبر: 2735 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، مُجَاهِدٍ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 , وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ، لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ، فَكَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] » اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر فرمایا: اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکا دیا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہو گا، اس کا کیا بنے گا۔ فائدہ: زقوم جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2734) باب پر واپس اگلی حدیث (2736) →