رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ، أَوْ نَحَرَ، أَوْ ذَبَحَ، وَأَشْبَاهِ هَذَا فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَرَجَ , لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دس ذی الحجہ کے دن اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے، یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2731]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن