بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27233
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27233
حدیث نمبر: 27233 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ ، عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ ، أَبِي بَصْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ:" رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي سَفِينَةٍ، فَلَمَّا دَفَعْنَا مِنْ مَرْسَانَا، أَمَرَ بِسُفْرَتِهِ، فَقُرِّبَتْ، ثُمَّ دَعَانِي إِلَى الْغَدَاءِ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَصْرَةَ، وَاللَّهِ مَا تَغَيَّبَتْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ؟! فَقَالَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَكُلْ، فَلَمْ نَزَلْ مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغْنَا مَاحُوزَنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید ابن جبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابوغفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میں فسطاط سے ایک کشتی میں روانہ ہوا، کشتی چل پڑی تو انہیں ناشتہ پیش کیا گیا، انہوں نے مجھ سے قریب ہونے کے لئے فرمایا، میں نے عرض کیا کہ ہمیں ابھی تک شہر کے مکانات نظر نہیں آ رہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے اعراض کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: پھر کھاؤ، چنانچہ ہم منزل تک پہنچنے تک کھاتے پیتے رہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27233]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل
← پچھلی حدیث (27232) باب پر واپس اگلی حدیث (27234) →