أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيد يعنى بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ ، عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جَبْرٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيد يعنى بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جَبْرٍ ، قَالَ: " رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ، فدفع , ثُمَّ قَرَّبَ غَدَاءَهُ، ثُمَّ قَالَ: اقْتَرِبْ، فَقُلْتُ: أَلَسْنَا نَرَى الْبُيُوتَ؟ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید ابن جبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابوغفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میں فسطاط سے ایک کشتی میں روانہ ہوا، کشتی چل پڑی تو انہیں ناشتہ پیش کیا گیا، انہوں نے مجھ سے قریب ہونے کے لئے فرمایا، میں نے عرض کیا کہ ہمیں ابھی تک شہر کے مکانات نظر نہیں آ رہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے اعراض کرنا چاہتے ہو؟ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27232]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل