إِسْحَاقُ هو بن عيسى ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هو بن عيسى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ، فَمَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:" أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ، يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر رکھ کر سو گئے، نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسنے لگے، جب بیدار ہوئے تو کسی زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ سوتے ہوئے ہنس رہے تھے، خیر تو تھی؟ فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر خوشی محسوس ہو رہی تھی جو سمندری سفر پر دشمن کو ڈرانے کے لئے نکلے ہیں، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے بڑی خیر کا ذکر فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2722]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، والقصة صحيح من حديث أنس وغيره، خ: 2788، م: 1912
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، والقصة صحيح من حديث أنس وغيره، خ: 2788، م: 1912